مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی وزارت خارجہ نے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس اقدام کے ساتھ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کا مرحلہ ختم ہوگیا ہے، جبکہ سعودی عرب کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
المسیرہ کے مطابق یمن کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی حکومت نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد جنگ بندی عملاً ختم ہو گئی اور یہ اقدام کھلی جنگ کے اعلان کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب اس حملے اور اس کے تمام نتائج کا مکمل ذمہ دار ہوگا۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے یمن کے خلاف محاصرہ سخت کرنے اور اقتصادی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے تاکہ یمنی عوام کو صہیونی مفادات کی خاطر دباؤ میں لایا جاسکے۔
بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ یمن اب اپنے مکمل حقوق کے حصول کے لیے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور سعودی عرب جلد ہی محسوس کرے گا کہ اس نے خود کو ایک اسٹریٹیجک بند گلی میں دھکیل دیا ہے، جس کی اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
دوسری جانب یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے بھی سعودی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے اور یہ جارحیت ہرگز بغیر جواب نہیں رہے گی۔
آپ کا تبصرہ